حسین آباد جپلا:ایک ایسا عالم دین جو پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ بات ہو رہی ہےمشہور عالم دین حضرت مولانا سید موسوی رضا کے مرحوم والد سید علی رضا کے چالیسویں میں آئے ہوئے عالم با عمل حجت الاسلام عالی جناب مولانا سیدمحمد میاں عابدی قبلہ کی۔ ایک ایسا عالم جو دین کی خدمت کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے ۔مولانا سید موسوی رضا نے بتایا کی جب قبلہ تشریف لائیں اُنکی مجلس رات میں تھی دن میں خالی تھے کسی نے بتایا حسین آباد کے آس پاس کچھ ایسے گاؤں ہیں جہاں کے حالات بہتر نہیں ہیں۔ قبلہ نے کہا میں اُن گاؤں میں جانا چاہتا ہوں لوگوں نے بتایا علاقہ سہی نہیں ہے نقسل (اتانکوادی) علاقہ ہے اسکے باوجود قبلہ نکل پڑے۔ مگر کچھ دور چلے ہی تھے کے ایکسیڈینٹ ہو گیا ۔جسمیں قبلہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک فرد کا سر پھٹ گیا ۔کار کی بری حالت ہو گئی ۔مگر اسکے باوجود محمد میاں صاحب قبلہ بائک سے نکل پڑے۔ وہاں جمعہ کی نماز پڑھائی۔ لوگوں کے دکھ درد اور تکلیف کو سنا۔ اور فوری طور پر اس پر کام بھی شروع کروا دیا ۔واپس آکر مجلس چہلم کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موت یقینی ہے مگر لوگ موت سے غافل ہیں ۔جس دن موت کو حق جان کر قبول کر لیا زندگی سدھر جائیگی۔ قبلہ مجلس کے فوراً بعد نکل پڑے ۔مولانا سید موسوی رضا نے مولانا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کے ہم سب حسین آباد کے مومنین خوش نصیب ہیں کے ایسے بزرگ عالم دین حسین آباد میں تشریف لائیں ۔
