تعلیم، خودرزگار اور سماجی انقلاب کےنقیب تھے حاجی عبدالرزاق انصاری

ان کے پُر عزم عہد سے ہی قائم ’دی چھوٹاناگپور ریجنل ہیڈلوم ویورس کوآپریٹیو یونین لمٹیڈ‘ آج 14 ہزار لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنا

صوبہ جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی ضلع میں واقع دیہی علاقہ ،اورمانجھی بلاک کے اربا بستی میں سیاہ سمندر سے نکلنے والے نور کی طرح ایک انقلابی شخصیت کی پیدائش ہوئی، جن کا نام عبدالرزاق انصاری تھا۔ غریب اور ناخواندہ گھرانے میں پیدا ہوئے عبدالرزاق انصاری نے اپنے گاؤں سمیت گرد و نواح کے پسماندہ ، محروم اور مظلوم طبقوں کے درمیان تعلیم کی روشنی اور اقتصادی خودمختاری کے ساتھ ہی سماجی تبدیلی کے لئے ایسا ناقابل فراموش کام کیا ہے جو تاریخ کے صفحات میںسنہرے حروف میںلکھے جانے لائق ہے اور ان کام ایسی عبارت بن گیا ہے جس کو آنے والی کئی نسلیں فراموش نہیں کر سکتیں۔عبدالرزاق انصاری نے غریبی اور ناخواندگی کی تاریکیوں میں زندگی بسر کرنے والی علاقے کی بڑی آبادی کو زندگی کی حقیقی معنویت اور روشنی سے روبرو کرایا تھا۔ ان کی دور اندیشی اور ان کے قابل ستائش کاموں کی دھمک علاقہ سے لے کرایوان تک گونجتی تھی اور جس کی بدولت اربا بستی کو اُس وقت بہار ریاست اور قومی فلک پر ایک خصوصی پہچان ملی تھی۔ غلام بھارت میں رانچی کے اربا گاؤں کے ایک غیر تعلیم یافتہ کپڑا بننے والے خاندان میں 24 جنوری 1917 کو غریب بنکر شیخ اسد علی کی اولاد کی شکل میں پیدا ہونے والے عبدالرزاق انصاری اپنے علاقے میں تعلیم، خودروزگار اور سماجی انقلاب کے ساتھ ہی قومی بیداری کے نقیب و رہنما تھے۔ انہوں نے تعلیم، خودروزگار، سماجی اور سیاسی بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ہی علاقے میں ’بندو سے سندھو‘ تک کی کہاوت کو سچ ثابت کرنے والے اتنے کثیر الامور کام کئے ہیں کہ آسانی سے اس پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ غریبی اور فقدان کی حالت میں عبدالرزاق انصاری کو بچن میںہی کپڑا بننے اور اس کو فروخت کرنے کے آبائی کام سے منسلک ہونا پڑا تھا۔ تعلیم حاصل کر سماج کی حالت اور سمت بدلے کی چاہت نے انہیں دس سال کی عمر میں ہی اسکول پہنچا دیا۔ وہ ایام طفلی میں ہی سمجھ چکے تھے کہ غریبی اور سماجی مسائل کی جنگ تعلیم کی طاقت اور علم کے ہتھیار سے ہی فتح کی جا سکتی ہے۔ اپنی قوم اور آس پاس کے سماج میں تعلیم کا شدید فقدان اور نتیجتاً موجودہ غربت اور مفلسی کو انہوں نے شدت سے محسوس کیا تھا۔ انہوں نے تعلیم حاصل کرکے اپنے حالات کو اصلاح کرنا محض اپنی زندگی کا مقصد نہیں بنایا، بلکہ پورے سماج کی خوشحالی کے لئے مثبت تبدیلی کا عہد لیا اور اس کےلئے پوری زندگی جدوجہد کی۔ پہلے انہوں نے اپنی ناخواندہ بیوی کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا پھر دونوں نے مل کر سماج کو تعلیم دینے کے چیلنج کو قبول کرتےہوئے نکل پڑے تھے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے مہاراشٹر میں جیوتی راؤ پھولے اور ان کی بیوی ساویتری بائی پھولے، دونوں نے مل کر ناخواندہ سماج کو تعلیم یافتہ بنانے کے لئے جدوجہد کی تھی۔
اپنی عمر کے تقریباً دس سال کے بعد حصولِ تعلیم کا آغاز کرنے والے عبدالرزاق انصاری اورمانجھی علاقے میں تعلیمی انقلاب پیدا کرنے کے روحِ رواں بن گئے۔ سال 1946 میں اربا گاؤں میں انہوں نے سب سے پہلے ایک اسکول قائم کیا۔ لوگوں کے درمیان تعلیم کی اہمیت و افادیت کو لے کر بیداری مہم چلائی۔ ان کی ترجیحات میں لڑکیوں کو بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا، جس کےلئے انہوں نے لڑکیوں کو گھروں سے نکالنا۔ تعلیم کے لئے ہی انہوں نے پورے علاقے میں 17پرائمری اسکولوں کو قائم کئے اور ایک ہائی اسکول شروع کیا۔ ان کے ذریعہ قائم کئے گئے تعلیمی ادارے علاقے میں تعلیمی انقلاب کے ذریعہ بنے۔
اس کے ساتھ ہی علاقہ کے پسماندہ مسلم، آدیواسی اور دلت برادریوں میں پھیلی غریبی و مفلسی کو دور کرنے کے لئے چھوٹی صنعت اور گھریلو صنعت کے جدید طریقۂ کار کی شروعات انہوں نے کی۔ بنکر خاندانوں کو متحد کر ان کے پیشے کو تحفظ فراہم کرنے کی مہم چلائی۔ انہوں نے اربا بستی میں سب سے پہلے بنکر کوآپریٹیو کمیٹی کی بنیاد رکھی۔ وہ بنکر برادریوں کے لئے متحدہ بہار میں راہبر و رہنما بن کر ابھرے۔ اسی دوران انہوں نے 40 کوآپریٹیو کمیٹیوں کی تشکیل دی اور بنکر کاروبار کے علاوہ غریب آدیواسی خاندانوں کو پتے کو دونا جیسے روایتی کاموں کو منظم روزگار کے ذرائع کی شکل میں ترقی دی۔ ان کے پُر عزم عہد سے ہی قائم ’دی چھوٹاناگپور ریجنل ہیڈلوم ویورس کوآپریٹیو یونین لمٹیڈ‘ آج 14 ہزار لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔
حاجی عبدالرزاق انصاری انسانیت میں بے پناہ بھروسہ رکھنے والے سماجی مساوات و برابری کے زندہ وتابندہ مثال اور مجسمہ تھے۔ انہوں نے علاقے کی اقتصادی بدحالی اور ناخواندگی کے خلاف بلا تفریق مذہب و ملت تحریک چلائی۔آدیواسی اور دیگر پسماندہ برادری کی ترقی کے لئے اتنی ہی پُرزور جدوجہد کی جتنی کہ مومنوں کے لئے۔ وہ اپنےمذہب کے اصولوں کو جتنی عزت اور توجہ دیتے تھے، اتنی ہی قدر ومنزلت ان میں دیگر مذاہب کے لئے بھی تھی۔وہ قرآن مجید کے ساتھ ہی ہندو دھرم کے گرنتھوں (مذہبی کتابوں) کوپڑھتے اور سمجھتے تھے اور اپنی زبان میں رمائن کے واقعے، مثال اور گیتا کے شلوکوں کی مثال ضرور پیش کرتے تھے۔ ابھی بھی بڑے بزرگ ان کے ذریعہ بتائے رام کی کہانی کے گیان (علم) کی چرچا کرتے ہوئے نہیں تھکتے ۔ عبدالرزاق انصاری ملک کی آزادی کی تحریک میں مہاتما گاندھی جی کے اصولوں و نظریات کو بروئے کار لاتے ہوئےہمیشہ کانگریس پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ مسلم لیگ علیٰحدہ پسند خیالات سے مسلمانوں کو بچاتے نظر آتے تھے۔ سال 1946 کے الیکشن میں جنوبی چھوٹاناگپور ڈویژن کی پانچوں سیٹوں پر ان کی کامیاب اور ایماندارانہ قیادت سے کانگریس نے قبضہ جمایا تھا۔ اس کے لئے انہیں اعلیٰ مرکزی قیادت سے کافی سراہنا ملی تھی۔سردار بلبھ بھائی پٹیل نے بھی ان کی کافی تعریف کی تھی اور دہلی آنے کی دعوت بھی دی تھی۔ ویسے حب الوطنی سے سرشار لیڈروں کی ترغیب اور اپنے عزائم سے سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے ساتھ سماج کی آخری صف و پائدان پر کھڑے شخص کی ترقی کے لئے ان کی پوری زندگی وقف تھی۔ وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہروکی اقتصادی ترقیات کے لئے صنعت کاروں کے خیالات اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی تشہیر کے خوابوں کو ایک قدم آگے بڑھ کر شرمندۂ تعبیرکرنے کے لئےتا حیات جدوجہد کرتے رہے۔ ان کے سارے معمولات اور نمونۂ حیات تو مہاتما گاندھی کے سماجی فلسفےسے متاثر اور ترغیب پائے ہوئے تھے۔ دستکاری اور کھادی صنعت کو ختم ہونے سے بچانے کےلئے حاجی عبدالرزاق انصاری کے ذریعہ کئے جا رہے کاموں کی گونج دور دورتک پھیلنے لگی۔ ان کی مرکز اور ریاستی سطح پر سیکڑوںبڑی سیاسی ہستیوں جیسے صدر جمہوریہ اوروزائےاعظم سے لے کر وزرائے اعلیٰ تک سے خوشگوار رشتے بنتے چلے گئے۔ جن میں پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد، ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد، سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی، ڈاکٹر ذاکر حسین، کے بی سہائے، مسٹر کرشن سنگھ، کرپوری ٹھاکر، جگناتھ مشرا وغیرہ اہم نام ہیں۔ ان کی بڑھتی شہرت، اثرات اور عوام کی اپیل نے ان کو سیاست کے شعبے میں قدم رکھنے کو مجبور کیا اور ایم ایل سی میں منتخب ہو کر جگناتھ مشرا حکومت میں وزیر بھی بنے۔ وہ ہینڈلوم، ریشم اور سیاحتی ترقیات محکمہ کے کابینہ وزیر بنائے گئے تھے۔ اس عہدہ پر رہتے ہوئے انہوں نے ناقابلِ فراموش کام کئے ۔ اس عہدہ کا استعمال انہوں نے اپنے کاموں کو رفتار دینے ، وسعت دینے اور سماجی ترقیات کے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں کئی تعلیمی ادارےقائم کئے۔ کئی تعلیمی اور سماجی اداروں کی کامیابیوں کےلئے انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا۔
حاجی عبدالرزاق انصاری نے اپنے علاقے کی خوشحالی کےلئے تعلیم، روزگار کے ساتھ ہی مقامی طور پرہمہ گیر اور مکمل صحت سہولیات مہیا کرانے کا خواب بھی دیکھا تھا۔اتنا ہی نہیں اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تمام تربہتر سہولیات سےلیس اسپتال کے سارے کام وہ پورے بھی کر چکے تھے اور اس کا سنگ بنیاد رکھنے کےلئے اس وقت بہار ریاست کے گورنر سے ملاقات کے لئے پٹنہ بھی گئے تھے۔ لیکن بدقسمتی یہ کہ پٹنہ سے لوٹنے کے بعد اچانک اسی شام وہ رب کائنات سے جا ملے ، ان کا انتقال پرمال کا واقعہ پیش آگیا۔ معاشرے کی ترقی کا خواب دیکھنے والی ان کی آنکھیں 14 مارچ، 1992کو ہمیشہ کےلئے بند ہو گئیں۔
لیکن خوش آئند بات یہ رہی کہ مرحوم حاجی عبدالرزاق انصاری کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کے وارثین نے ان کے خوابوں کی شمع کو بجھنے نہیں دیا۔ انہیں کے نام سے عالی شان ’حاجی عبدالرزاق ویورس اسپتال‘ کی تعمیر کی جو آج سپراسپشیلٹی ہاسپٹل کی شکل میں صوبہ جھارکھنڈ ہی نہیں ملک کے کئی حصوں سے آئے مریضوں کےلئےجدید طبی سہولیات مہیا کرا رہاہے۔ انسانیت کے روشن عبقری شخصیت تھے عبدالرزاق انصاری۔ جنہوں نے اپنی کثیر الجہات صلاحیتوں اور اعلیٰ درجے کی سوچ و فکر کے ساتھ مشکل اورسخت جاں جدوجہد، کاوشوں کی بدولت سماج کی رہنمائی کے آسمان کا وہ دمکتا چمکتا سورج بن گیا ،جو ہمیشہ ایکتائے روزگار مثالی سماج کی ترغیب کی شمع بکھیرتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔
حاجی عبدالرزاق انصاری جیسی شخصیت 1964 میں بہارکے اسمبلی ساز کونسل کے رکن بنائے گئے۔ اس کے بعد بہار کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر جگناتھ مشرا نے 1989 میں پھر سےانہیں نہ صرف ایم ایل سی کاممبر بنایا، بلکہ دستکاری، ریشم اور سیاحتی محکمہ میں کابینہ وزیر کا عہدہ بھی دیا۔ وہ اپنی زندگی کے آخری دور تک سماج کےلوگوں کی خدمت اورترقی کے لئے وقف رہے۔ ایسی مثالیں بھارت میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔ حاجی عبدالرزاق انصاری 1946 سے سیاست میں سرگرم رہے۔ وہ شروع سے ہی مسلم لیگ اور اس کی ٹو نیشن تھیوری کے خلاف رہے۔ ان کی جدوجہد اور کوششوں کی وجہ سے 1946 میں چھوٹاناگپور ڈویژن کی پانچوں سیٹیں کانگریس کی جھولی میں آئیں۔ ان کے اس کارنامے اور شاندار کارکردگی سے خوش ہو کر سردار بلبھ بھائی پٹیل نے انہیں دہلی طلب کیا۔ ملک کی آزادی کے بعد 1948 میں پرائمری بنکر کوآپریٹیو کمیٹی کی بنیاد ڈالی اور رفتہ رفتہ کوآپریٹیو آندولن سے بنکروں کو جوڑا۔ 1978 میں ’دی چھوٹاناگپور ریجنل ہینڈلوم ویورس کوآپریٹیو یونینی لمٹیڈ‘ کا قیام عمل میں لا کر دستکاری صنعت سے بنکروں کو جوڑا۔