چترا۲۸؍: ہمارا اصل مقصد ومنشاءدین وشریعت اور اس سے متعلق علوم وفنون کی تعلیم وترویج ہے۔اور اس کے لئے ہروہ ذریعہ استعمال کرنا درست اور مفید ہے ۔مذکورہ خیالات کا اظہارمحقق زماں قاضی شریعت حضرت اقدس الحاج علامہ ومولانا مفتی نذر توحید صاحب مظاہری رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ وشیخ الحدیث و مہتمم جامعہ رشیدالعلوم چترا نےجامعہ میں آن لائن اسباق کے آغاز کے موقع پر کہی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی وباءکورونا وائرس کی وجہ سے جامعہ کے احاطہ میں رہ کر طلبہ کے لئے حصول تعلیم وتربیت فی الوقت ناممکن نہ سہی کافی حد تک مشکل ضرور ہے ۔ (جہاں چاہ وہاں راہ)۔اسی لئے حالات کے پیش نظر جامعہ کے ذمہ داران نے آن لائن تعلیم کا فیصلہ کیا تاکہ عربی مقولے ’’ کوئی چیز اگرپوری نہ ملے تو اس کی آدھی بھی نہ چھوڑی جائے‘‘پر عمل ممکن ہوسکے ۔ وہیں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے جامعہ رشید العلوم کے صدرالمدرسین مفتی شعیب عالم قاسمی نے کہاکہ ارباب علم اور ارباب مدارس نے ہمیشہ جدید نافع کا کھلی باہوں سے استقبال کیا ہے۔ اور ان پر ہرنئی چیز کے نادرست ٹھہرانے کا الزام حقائق سے کوسوں دورہے۔ جس کی مثال ومظہر یہ آن لائن دروس کا سلسلہ سے بھی ہے۔ دفتر تعلیمات سے مولانا اقبال نیر مظاہری نے بتایاکہ طے شدہ مشورہ کے مطابق آن لائن اسباق کا کل دورانیہ تین گھنٹہ پر مشتمل ہوگا۔نیز ہرسبق(سبجیکٹ) کل تیس منٹ کا ہوگا۔ جس میں اساتذہ کے لئے جامعہ سے ہی درس دینے کا انتظام کیا گیا ہے،تاکہ گھر یا سفر کے ماحول میں ہونے والی خلل اندازیوں سے احتراز ممکن ہو اور مکمل یک سوئی کے ساتھ درس دیا جاسکے ۔ آن لائن تعلیم کے شروع کرنے کا فیصلہ جامعہ کے ذمہ داران واساتذہ کی میٹنگ کے بعد متفقہ مشور ہ سے کیا گیا اس موقع پر مولانا آفاق صاحب ،مفتی ضیاء الحق صاحب، مولانا محمد احرار، مولانا اسامہ صادق، مفتی احمد، مفتی عالمگیر، مولانا جسیم الدین، مفتی محمد قیصر عالم، ماسٹر شاہ فیصل، ماسٹر سنجیر عالم، حافظ اسلام، مولانا خالد، قاری محمد سہیل وغیرہ نے بھی اپنی رائے پیش کی۔
